| ہمارا مشن، محبت مشن ہے | |
| بے حد و لاتعداد تعریف اس پیارے مالک کی جس نے جسدِ خاکی کو اپنی پیاری روح سے شاندار بنادیا اور فہم و فراست سے نواز کر اس بات کی طلب قلوب و اذہان میں روشن کر دی کہ ایسی پیاری مخلوق کے خالق کی تلاش کی جائے اور پھر خود ہی اسکا سامان مہیا کر دیا ۔انبیاء و رسول بھیج بھیج کر اپنی محبت کے گلستان کو جگمگاتا رہا اور بے شمار گلشنِ محبتِ پروردگارِ عالم میں نغماتِ محبت گنگنانے والے خوش آواز اور خوش دل انسان اپنی اپنی داستانِ محبت رقم کرتے رہے۔انبیاء و رسولوں کے بعد اللہ کے چاہنے والے موجود رہے۔جن کی ڈیوٹی انبیاء جیسی ہے،کیونکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ مداواء غمِ انسانیت بھی ہیں۔بیماروں کو شفا یاب ہونے کے ساتھ ساتھ مریضِ دل بھی نسخۂ اکسیر حاصل کر سکتا ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” میرے دوست میری چادر کے نیچے ہیں”۔سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تھے اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی دوست موجودہیں۔دوست اس وقت بھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کے نیچے تھے اور دوست آج بھی شفقتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے پروان چڑھ رہے ہیں۔اس طرح دین کو قائم رکھنا،دین کو عام کرنا اور تمام انسانیت کے قلوب کو اللہ کے ذکر سے مزیّن کرنا، کردار کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نفس کی تعمیر و ترقی کرنا،دل کی دنیاؤں کو علومِ مافوق الفطرت سے پُر کرنا ،بے چین روحوں کو ابدی تمانیت بخشنا،یہ کام اُس مردِ قلندر کاہوتا ہے جو تابعداریء مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے مشن کو لے کر چل رہا ہواور ان خصوصیات کا حامل ہی مرشدِ کامل ہوا کرتا ہے۔ |
Leave a Reply