Author: amc ali

  • قصور وار کون تھا؟

    قصور وار کون تھا؟

    اُمِ ابیحہ

    اس کو لکھنے سے پہلے میں نے کئی بار سوچا پھر رہنے دیا پھر سوچا پھر رہنے دیا سمجھ نہیں آ رہا تھا لکھوں یا نہ لکھوں پھر سوچا لکھنا چاہئے ہو سکتا ہے کسی اور کو پڑھ کر لگے یہ اس کے ارد گرد کی کوئی کہانی ہے یا پھر کسی کہانی کی طرح کوڑے والی ٹوکری کی نظر ہو جائے پھر بھی لکھنا چا ہ رہی تھی اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ایک سائیکاٹرسٹ نے ایک دفعہ کہا تھا جب دل میں بات ہو اس کہ شیئر نہ کرنا چاہو کسی انسان کے ساتھ تو سب سے اچھا طریقہ ہے اس کو کاغذپر لکھو اور جب سکون ہو جائے تو پھر ردی کی ٹوکری کی ذینت بنا دو کیونکہ اس سے تمہارے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ وہ راز کسی اور تک نہ پہنچے گا۔اس واقع میں جس عورت کا ذکر ہے اس کا نام میں احتیاطََ نہیں لکھ رہی۔”جمیلہ ” اپنے والدین کے ساتھ ایک گاﺅں میں رہ رہی تھی دو بھائیوں کی بڑی بہن تھی باپ پیشے کے لحاظ سے زمیندار تھا گاﺅں میں پرائمری سکول تھا یہا ں سے تعلیم حاصل کی پھر ساتھ والے گاﺅں کا رخ کیا یوں آٹھویں کا امتحان پاس کیا اور نویں کلاس میں داخلہ لیا تو باپ کی ذمہ داری میں اضافہ ہو گیا روز سوکول لانا اور چھوڑنا معمول کی عادت تھی۔ایک دن “جمیلہ ” کے باپ کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ بیمار ہو گیا جو معمولی سی بات تھی مگر یہ بات معمولی نہ رہی ایک سال کے طویل عرصے کے بعد “جمیلہ ” کا باپ وفات پا گیا۔”جمیلہ ” کے سالانہ امتحانات تھے مگر وہ شمولیت نہ کر سکی” جمیلہ ” کی ماں نے بیٹی سے کہا اب پڑھائی چھوڑ دو کیونکہ ذمہ داری بھائیوں کے کندھوں پر ہے وہ دونوں بھائی اپنی زمین کی کاشت کاری کر رہے تھے۔دو سال کے بعد” جمیلہ ” کی شادی اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ ہوگئی۔یہ ایک عام سی کہانی ہے اکثر گھروں کی باتیں اور کہانیاں ایسی ہی ہوا کرتی ہیںشادی کے ایک سال بعد “جمیلہ “کا شوہر سعودی عرب روزگار کے لئے چلا گیا۔ تین سال کے عرصے بعد وہ واپس آیا تو” جمیلہ ” کی مشکلات میں اضافہ ہوا.اولاد نہ ہونے کی وجہ سے “جمیلہ ” کو ذہنی کوفت برداشت کرنا پڑی۔”جمیلہ ” کے شوہر کا رویہ بہت اچھا تھا کسی قسم کے مسائل کا” جمیلہ ” کو کبھی سامنا نہ کرنا پڑا۔ چچی جو کے اب ساس تھی اور اپنے بیٹے کی اولاد چاہ رہی تھی بیٹے کی دوسری شادی کے لئے بضد ہو گئیں مگرجمیلہ کا شوہر نہ مانا اور واپس سعودی عرب چلا گیا۔دو سال بعد واپسی ہوئی تو پھر وہ ہی مسائل آخر جمیلہ کا شوہر دوسری شادی کے لئے مان گیا ۔جمیلہ کے شوہر کی دوسری شادی کا ہونا تھا اللہ تعالٰی نے جمیلہ کو ایک بیٹے سے نواز دیا۔ ایک طرف خدا کی نعمت اور دوسری طرف اس نعمت کی نا شکری ۔”جمیلہ ” کو اس کے میکے بھیجا گیا اور ساتھ ہی طلاق بھجوا دی گئی۔اس کا شوہر اس اثناءمیں ملک سے باہر تھا۔ جمیلہ اپنے ماں باپ کے گھر موجود تھی جمیلہ کا بیٹا ایک سال کا ہوا تو بیمار ہو گیا۔بیماری کی تشخیص کا مجھے معلوم نہیں مگر جمیلہ کے مطابق اس کے سر میں کوئی مسلہ تھا۔میرے جیسےی ایک عورت نے مشورہ دیا” جمیلہ ” کا سابقہ شوہر جو بیٹے کا باپ ہے اس سے کہو بیٹے کا علاج کر وائے۔جمیلہ کے سابق شوہر نے بیٹے کا علاج نہ کروایا تواس نے عدالت کا رجوع کیا اورشوہرکوعدالت کی طرف سے نوٹس بھجوا دیا اس بات پر اس کے بھائیوں نے اس سے قطع تعلقی اختیار کر لی مگر© جمیلہ کی ماں اپنی بیٹی کا ساتھ دیتی رہی عدالت میں ابھی کیس کا فیصلہ نہ ہواتھا کہ اس کا بیٹاتقریباََ دو سال کی عمرکو ہو کر وفات پا گیا۔جمیلہ اپنے بھائیوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کے اس کے بیٹے کی موت کے ذمہ دار بھائی ہیں کیونکہ انہوں نے بیٹے کا علاج نہیں کروایا۔جمیلہ کو ایک این جی او کی طرف سے دارالاآمان میں رہنے کی جگہ میسر کروائی گئی اور پچھلے دو سال سے وہ دارلاآمان میں ہے اس کی والدہ بھی وفات پا چکی ہیں بھائیوں کا اس سے کوئی رابطہ نہیں۔۔۔اس ساری بات کو سناتے وقت میں نے اسکو بہت پُر اطمینان پایا میرے لئے یہ عجیب تھا بلکہ بہت عجیب تھا کہ والدین نا شوہر اوپر سے اولاد نہیں پھر بھی اتنا سکون ؟۔میں نے اس سے پوچھا تمہیں نہیں لگتا تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس نے صاف کہانہیں۔عجیب تھی وہ جس کو کوئی غصہ کسی پر نہیں تھا اس کہانی کو سننے کے بعد میں کچھ دن آرام سے نہ رہ سکی نہ جانے کیوں ،،اس کی کہانی کی فلم میرے ذہن میں کیوں چلتی رہی؟ ،میں عجیب سی کیفیت سے دوچار رہی کہ کون قصوروار ہے اس عورت کا بھائی شوہر حالات یا پھر قسمت؟میں نے بہت سوچا مگر مجھے کوئی مطابقِ عقل اور مناسب جواب نہیں ملا میرے ذہن میں میرے ایک استاد کی بات گھومتی رہی اللہ تعالیٰ بیٹیاں دے تو ان کی قسمت اچھی دے۔

  • Amir Bin Ali

    Amir Bin Ali

     Amir Bin Ali has Reinvigorated the Urdu poetry. He has always been a globetrotter filled with the passion for traveling. Wandering all around the globe in Search Of New Sights & Experiences.  He has Written four poetry Books & Two Travelogues along with his Books Of Interviews With Celebrities. He has translated several Nobel Prize laureates poets, as he is Expert in Seven international Languages

    (Daily Times Book Review)

    https://www.amirbinali.com

  • Mohabbat Mission

    Mohabbat Mission

    ہمارا مشن، محبت مشن ہے

    بے حد و لاتعداد تعریف اس پیارے مالک کی جس نے جسدِ خاکی کو اپنی پیاری روح سے شاندار بنادیا اور فہم و فراست سے نواز کر اس بات کی طلب قلوب و اذہان میں روشن کر دی کہ ایسی پیاری مخلوق کے خالق کی تلاش کی جائے اور پھر خود ہی اسکا سامان مہیا کر دیا ۔انبیاء و رسول بھیج بھیج کر اپنی محبت کے گلستان کو جگمگاتا رہا اور بے شمار گلشنِ محبتِ پروردگارِ عالم میں نغماتِ محبت گنگنانے والے خوش آواز اور خوش دل انسان اپنی اپنی داستانِ محبت رقم کرتے رہے۔انبیاء و رسولوں کے بعد اللہ کے چاہنے والے موجود رہے۔جن کی ڈیوٹی انبیاء جیسی ہے،کیونکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ مداواء غمِ انسانیت بھی ہیں۔بیماروں کو شفا یاب ہونے کے ساتھ ساتھ مریضِ دل بھی نسخۂ اکسیر حاصل کر سکتا ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” میرے دوست میری چادر کے نیچے ہیں”۔سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تھے اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی دوست موجودہیں۔دوست اس وقت بھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کے نیچے تھے اور دوست آج بھی شفقتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے پروان چڑھ رہے ہیں۔اس طرح دین کو قائم رکھنا،دین کو عام کرنا اور تمام انسانیت کے قلوب کو اللہ کے ذکر سے مزیّن کرنا، کردار کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نفس کی تعمیر و ترقی کرنا،دل کی دنیاؤں کو علومِ مافوق الفطرت سے پُر کرنا ،بے چین روحوں کو ابدی تمانیت بخشنا،یہ کام اُس مردِ قلندر کاہوتا ہے جو تابعداریء مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے مشن کو لے کر چل رہا ہواور ان خصوصیات کا حامل ہی مرشدِ کامل ہوا کرتا ہے۔
    https://mastwaar.com/muhabbat-mission-international/

  • Govt Special Education Center Mian Channu

    Govt Special Education Center Mian Channu


    Govt. Special Education Center Mian Channu was conceived as a social welfare organization to cater for the ever-growing needs of special children dwelling specifically in ‘rural’ areas of Pakistan. It is providing totally free education and school health services to special children living in Tehsil Mian Channu  for the past 7 years.

    Govt Special Education Center Mian Channu http://apnamianchannu.com/govtspecialeducationcenter

  • تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی میاں چنوں آمد اور اسٹیڈیم میں جلسہ عام سے خطاب

    رپورٹ محمد بلال مجاہداپنا میاں چنوں ڈاٹ کام)تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا کہ 104چک میں میرے دادا کی زمین ہے میںبچپن میں یہاں آیا کرتا تھا۔اور اب ایسے لگا جیسے اپنے گھر آگیا ہوں ۔نوجوانوں تیاری کر لو ، نیا پاکستان بننے والا ہے وہ پاکستان جو دراصل قائد اعظم کا پاکستان تھا۔
    یہاں حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں ، انہوں نے باریاں لگائی ہوئی ہیں، مگر ان کو نہیں پتہ کے ان کی پارٹنر شپ توڑنے والا عمران خان آگیا ہے۔ایک تبدیلی کی سونامی آگئی ہے جو انشاءاللہ ایک نیا پاکستان بنانے جارہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کے میں نے وعدہ کیا ہے کہ قوم سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ، یہ کبھی نہیں ہو گا کہ جب عمران خان آپ سے یہ کہے کہ میں تین سالوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرے گا تو انشاءاللہ ختم کروں گا، حکومت میں اچھے لوگ آئیں گے ، تعلیم میں ہونے والی ناانصافی کو ختم کروں گا۔ 90نوے دن میں پاکستان کی بڑی کرپشن ختم کر کے دکھاﺅں گا ۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستانی قوم کا سرمایا ہیںمحسن پاکستان کو اس الیکشن میں کامیاب کرواکر ملک کا وزیر اعظم بنائیں ملک کی تقدیر بدل جائے گی انجینئر امتیاز حسین شاہ صو بائی صدر تحریک تحفظ پاکستان

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستانی قوم کا سرمایا ہیںمحسن پاکستان کو اس الیکشن میں کامیاب کرواکر ملک کا وزیر اعظم بنائیں ملک کی تقدیر بدل جائے گی انجینئر امتیاز حسین شاہ صو بائی صدر تحریک تحفظ پاکستان

    میاں چنوں ( عمر فاروق نمائندہ میٹرون نیوز میاں چنوں سے) حکمرانوں نے پانچ سالوں میں عوام کو بیدردی سے لوٹا ملکی معیشت کو داو¿ پر لگانے والے ڈنگ ٹپاو¿ سیاستدان کس منہ سے عوام میں جائیں گے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستانی قوم کا سرمایا ہیںمحسن پاکستان کو اس الیکشن میں کامیاب کرواکر ملک کا وزیر اعظم بنائیں ملک کی تقدیر بدل جائے گی انجینئر امتیاز حسین شاہ صو بائی صدر تحریک تحفظ پاکستان کا تحصیل پریس کلب میاں چنوںمیں پریس سے خطاب انہوں نے مزید کہا کہ جب ڈاکٹر عبد القدیر خاں وطن آ ئے تو انہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا جذبہ لے کر خیموں میں بیٹھ کر ایٹم پر کام کیا اور وہ اس وقت صرف 3000ہزار روپے تنخواہ لے کر گزارا کر تے رہے کیونکہ ان کے اندر حب الوطنی تھی اور جب وہ ریٹائرڈ ہو ئے تو ان کی پینشن صرف 4800روپے مقرر کی گئی جب کے ان کو مغربی ملکوں سے لاکھو ں ڈالر کے عوض کام کر نے کی پیش کش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا اور آ ج کے حکمران جو اپنے آ پ کو پاکستانی عوام کا ہمدر سمجھتے ہیں ان کے سوئس بنکوں میں لاکھو ں ڈالر موجو دہیں انہوں نے تو عوام کے ہاتھوں سے روٹی تک چھین لی اور سر پر چھت بھی نہ رہنے دی گزشتہ پانچ سا ل پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دن تھے جسمیں لٹیروں کی فوج ہر طرف بے مہار دند ناتی پھرتی رہی ہے ان کے ہاتھ جو کچھ بھی آ یا انہوں نے وہ بیچ کھایا ایک سوال پر انجینئر امتیاز حسین شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حکومت کو پیش کش کی تھی کہ صرف چند ہزار روپے میں ہم ایسی ٹیکنا لوجی رکھتے ہیں جس سے ڈرون طیاروں کو تباہ کر نے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے جنگی جہاز بھی اتار ے جاسکتے ہیں حکمران صرف اور صرف ڈالروں اور اپنے ذاتی مفادات کے عوض ملکی سلا متی کو داو¿ پر لگا رہے ہیں اور جن حکمرانوں نے عوام کو بیدری سے لوٹا ہے اگر ان میں تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو وہ عوام میں اب ووٹ مانگنے نہ جائیں پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ناصر رزاق ضلعی صدر تحریک تحفظ پاکستان خانیوال بھی موجود تھے ۔

    For More information Visit

    http://ApnaMianChannu.com

  • الحاج اویس رضا قادری کی میاں چنوں آمد

    تحریروترتیب:نثار چودھری
    یوں تو میاں چنوں میں محافل نعت کا انعقاد مختلف مقامات پر گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے اور عاشقان رسول ﷺ جوق درجوق ان بابرکت محافل میں شریک ہوکر فیوض وبرکات اپنے دامن میں سمیٹتے رہتے ہیں اور ہر محفل ہی روح کی تسکین بنتی ہے لیکن میاں چنوں میں ایک محفل نعت ایسی بھی منعقد ہوئی جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے مدتوں یاد رکھی جائے گی یہ محفل گزشتہ دنوں وجد کی رات کے نام سے غلہ منڈی میاں چنوں میں منعقد ہوئی تھی اور اس محفل کی انفرادیت اور خاص بات یہ تھی کہ اس محفل میں میاں چنوں کی سرزمین پر پہلی بار معروف عالمی شہرت یافتہ ثناءخوان الحاج اویس رضا قادری تشریف فرما ہوئے تھے اویس قادری جوکہ بین الاقوامی شہرت کے حامل نعت خواں ہیں ثناءخوانی میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں وہ جس محفل میں جاتے ہیں لوگ دیوانہ وار اس محفل میں شریک ہوکر اپنے شوق ایمانی کو جلا بخشتے ہیں اور اویس رضا قادری اپنی پرسوز آواز کا ایسا جادو جگاتے ہیں کہ لوگوں پر بے خودی اور سحر کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اہلیان میاں چنوں کو یہ خوشخبری ملی کہ دلوں کو مسخر کرلینے والے ثنا ءخوان مصطفیﷺ حضرت الحاج اویس رضا قادری ان کی سرزمین پر تشریف لارہے ہیں تو عاشقان مصطفی ﷺ میں ایک عجیب سی روحانی خوشی کی لہر دوڑ گئی، یہ خوشی اس لئے بھی دلوں میں اترگئی کہ ان کے محبوب ثناءخوان جنہیں وہ اس سے پیشتر مختلف ٹی وی چینلز پر ہی دیکھتے تھے یا ان کی آڈیو سنتے تھے اب براہ راست ان کے روبرو ان کی نگاہوں کے سامنے جلوہ افروز ہوکر اپنی خوبصورت آواز سے ان کی سماعتوں کی تسکین کریں گے۔ یہ محفل پانچ اپریل کو منعقد ہونا تھی اور شہر بھر کے لوگوں کو کئی روز پہلے اس تاریخ کا شدت سے انتظار شروع ہوگیا تھا،انتظامی کمیٹی کی طرف سے اس پروگرام کی پبلسٹی اپنی جگہ لیکن لوگ ایک دوسرے کو خوشی سے بتاکر کہ اویس قادری صاحب تشریف لارہے ہیں پبلسٹی کا زیادہ باعث بن رہے تھے خدا خدا کرکے پانچ اپریل کا دن آیا محفل کی انتظامیہ جس کے روح رواں یاسین جانگلہ تھے جنہوں نے شب وروز محنت کرکے اس پروگرام کو عملی شکل دی پانچ اپریل کو غلہ منڈی میں محفل کے مقام کو انتہائی خوبصورت طریقے سے سجایا ،جگمگاتی روشنیاں خوبصورت منظر پیش کررہی تھیں سرشام ہی لوگوں کی چہل پہل شروع ہوگئی تھی ایک جشن کا سا سماں محسوس ہورہا تھا، عشا ءکی نماز کے بعد لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا پولیس کے جوان سیکورٹی کیلئے الرٹ تھے اور لوگوں کو تلاشی کے بعد پنڈال میں داخل ہونے دیاجارہا تھا نو بجے تک پنڈال لوگوں سے بھرچکا تھا۔لوگوں کا ایمانی جوش وجذبہ دیدنی تھا اور اس بات پر بڑے خوش تھے کہ آج کچھ گھنٹوں بعد وہ اپنے محبوب ثنا خوان کو اپنی نظروںکے سامنے بٹھاکر سنیں گے۔محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور یہ سعادت قاری ظفر اقبال نے حاصل کی جنہوں نے نہایت ہی خوبصورت لہجے کے ساتھ کلام پاک سے لوگوں پر ایک ایمانی کیفیت طاری کردی اس سے قبل مقامی ثنا خوانوں نے شان رسالت ﷺمیں گلہائے عقیدت پیش کئے، تلاوت کلام پاک سے باقاعدہ آغاز کے بعد مہمان ثنا خوان وسیم عباس چشتی آف چیچہ وطنی اور قاری شفقت رسول سہروردی آف ساہیوال نے گلہائے عقیدت پیش کرکے محفل میں وہ سماں باندھا کہ حاضرین عش عش کر اٹھے نعرئہ تکبیر اور نعرہ رسالت ﷺکے نعروں سے فضا گونجتی رہی اس دوران نقابت کے فرائض معروف مقرر کمپیئر پروفیسر اقبال عابد نے سنبھال لئے جنہوں نے منفرد انداز میں کمپیئرنگ کرکے ایمان سے نکھرے ہوئے ماحول کو مزید نکھار دیا۔رات ساڑھے بارہ بجے سے اوپر کا وقت ہوچکا تھا اوراویس رضا قادری ابھی تک تشریف فرما نہیں ہوئے تھے لوگوں کو پل پل ان کی آمد کا بے چینی سے انتطار تھا اس دوران کمپیئر اقبال عابد نے اعلان کیا کہ لوگوں کے محبوب ثنا خواں اویس قادری صاحب تھوڑی دیر تک تشریف لانے والے ہیں ان کی آمد تک کیو ٹی وی ملتان کے ثنا خوان حافظ محمد مطاہر قادری اپنی خوبصورت آواز سے لوگوں کے دلوں کو گرمائیں گے۔ حافظ مطاہر قادری نے بلاشبہ وہ سماں باندھا کہ ایمان تازہ ہوگئے اور کم وبیش ایک گھنٹہ تک انہوں نے عاشقان رسول ﷺ کو مسحور کئے رکھا۔ ٹھیک رات کے ڈیڑھ بجے اعلان ہوا کہ الحاج اویس رضا قادری تشریف لاچکے ہیں اور سٹیج پر آیا ہی چاہتے ہیں۔ یہ اعلان سنتے ہی لوگوں کے جوش وخروش میں اضافہ ہوگیا اور ہر طرف سے اللہ اکبر کے نعروں کی آواز گونجنے لگی۔ جیسے ہی قادری صاحب سٹیج پر نمودار ہوئے لوگوں نے انتہائی قلبی مسرت کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا اور پھر فضا میں تکبیر اور رسالت کے نعرے گونجتے رہے۔ سٹیج پر شریف کاٹن جنرز کے حاجی محمد شریف، میاں جاوید اقبال، حاجی احسان شاہد باری اور مولانا مفتی رفیق احمد شاہجمالی نے اویس قادری کا پرجوش استقبال کیا۔ انہوں نے اپنے اس استقبال اور بے پناہ محبت بھرے جذبات کیلئے انتظامیہ اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں گزشتہ بائیس برس سے نعت خوانی کررہا ہوں لیکن میاں چنوں میں پہلی مرتبہ آنے کا اتفاق ہوا آپ کی بے تحاشا محبت پاکر دل کو روحانی سکون حاصل ہوا۔ اگر آپ نے پروگرام کے آخر تک ایسی محبت اور نظم وضبط کا ثبوت دیا تو میرے لئے خوشی کی بات ہوگی اور میرا دل چاہے گا کہ میں دوبارہ آپ کے شہر میں آو¿ں، اویس رضا قادری تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک عاشقان رسول ﷺ کے کانوں میں رس گھولتے رہے۔ ان کی مسحور کن آواز میں نعتیہ کلام سن کرپہلی مرتبہ کسی محفل میں لوگوں کو آنسوو¿ں کے ساتھ روتا ہوا دیکھا گیا لوگ فرط جذبات سے اٹھ اٹھ کر ان کے ہاتھ چومتے رہے صاحب ثروت لوگوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی ان پر نوٹوں کی بارش کردی۔ پورے ماحول پر ایک ایمانی کیفیت طاری تھی، پوری فضا محبت کی خوشبوو¿ں سے مہکی ہوئی تھی ہر طرف عقیدت کے جذبوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، لوگ مبہوت ہوکر اویس قادری کا کلام سن رہے تھے اور ہر فرد بے خودی کی رنگ میں رنگا ہوا سرکار دو عالم ﷺ کی محبت میںڈوبا ہوا پرکیف جذبوں سے سرشار نظر آرہا تھا اویس قادری اپنے منفرد انداز کے ساتھ ہر شعر کی تشریح کے ساتھ کلام سناتے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہر نعت کے بعد شرعی امور پر گفتگو کرتے رہے جس سے لوگوں کو خاصی دینی معلومات حاصل ہوئیں۔ اس دوران اویس قادری نے لوگوں سے وعدہ لیا کہ وہ معاشرے میں یکجہتی محبت اور امن پیدا کرنا چاہتے ہیں تو وہ سلام کو عام کریں سلام جس کا مطلب دوسروں پر سلامتی بھیجنا ہے اگر اسے ہم عام کریں اور کثرت سے ایک دوسرے پر سلامتی بھیجیں گے تو لامحالہ محبتوں کو فروغ ملے گا جس سے معاشرہ امن وسکون کا گہوارا بنے گا۔ ٹھیک رات کے تین بجے اویس قادری اپنا کلام ختم کرکے درود سلام کیلئے کھڑے ہوگئے۔اس کے ساتھ تمام لوگ بھی کھڑے ہوگئے۔ جبکہ لوگوں کا ذوق کا یہ عالم تھا کہ اگر اویس قادری مزید ایک گھنٹہ اور ثناخوانی کرتے تو لوگ ذہنی طورپر تیار تھے۔ سلام کے بعد لوگ دیوانہ وار ان کی طرف ہاتھ ملانے کیلئے لپکتے رہے۔ اویس قادری نے لوگوں کی محبتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خوشگوار یادیں لیکر جارہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ میں سال میں ایک مرتبہ میاں چنوں ضرور آو¿ں اور اس طرح رات کے تیسرے پہر الحاج اویس رضا قادری لوگوں میں خوشگوار یادیں چھوڑکر رخصت ہوگئے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس خوبصورت محفل کو سجانے اور اویس قادری کو اس محفل کی زینت بنانے میں ڈائریکٹر کاٹن جنرز میاں جاوید اقبال نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے خلوص محبت اور محنت نے محفل کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ وہ بلاشبہ ایک باہمت پرجوش اور پرعزم انسان ثابت ہوئے جنہوں نے جو سوچا وہ کرلیا اور آرگنائزر میاں غلام حسین جانگلہ نے بھی کئی روز کی محنت کے بعد نہایت مو¿ثر اور منظم انتظامات کئے اور اس محفل کی کامیابی میں ان کا بھی بڑا عمل دخل ہے اسی طرح دیگر ساتھیوں میں محمد قذافی، سعید احمد،حسن رضا شاہ ایڈووکیٹ، رشید طور، شوکت بلا طور وغیرہ بھی پیش پیش رہے۔

  • چیف جسٹس آ ف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی میاں چنوں بار ایسوسی ایشن تحصیل میاں چنوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات

    جوڈیشل حوالاتوں کی عدالتوں سے دوری مقدمات نمٹانے میں تاخیر کا سبب ہے،جوڈیشل پالیسی کا مقصد مقدمات سے جان چھڑانا نہیں جوڈیشل آفیسرز کو محتاط رویہ رہنا چاہیے۔جیف جسٹس آ ف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا میاں چنوں بار ایسوسی ایشن تحصیل میاں چنوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات میں مسائل کی نشاندہی پر اظہار خیال۔میاں چنوں بار کے دورہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے ملتان آمد پر لازمی آنے اور تمام مسائل حل کرنے کا وعدہ
    میاں چنوں(رضا جعفری سے)جیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان افتخار محمد چوہدری نے صدر بار چوہدری ندیم اختر کی قیادت میں اپنے چیمبر کے کانفرنس روم میں میاں چنوں بار ایسوسی ایشن تحصیل میاں چنوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات میں مختلف مسائل کی نشاندہی پر میاں چنوں کے قریب موسیٰ ورک میں پولیس اہلکار کے گناہ کی سزا پوری قوم کو دیتے ہویئے جوڈیشل لاک اپ ختم کیے جانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں فوری کارروائی ہونی چاہیے چونکہ جوڈیشل حوالاتوں کی عدالتوں سے دوری مقدمات نمٹانے میں تاخیر کا سبب ہے۔جوڈیشل پالیسی پر ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کیسز کے نپٹانے میں جوڈیشل آفیسر ز کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے جوڈیشل پالیسی کا مقصد مقدمات سے جان چھڑانا ہرگز نہیں ہے۔ اس موقعہ پر وہاں موجودرانا محمد اسلم،چوہدری اللہ دتہ ،محمداشرف سیال،را ئے ا لفیصل حسین کھرل، ملک امتیاز لک،غلام شبیر قادری،سردار محمد انصاف رضا حسین جعفری ایڈووکیٹس نے باری باری انہیں وکلاء کے مسائل کی نشاندہی کی اور انہیں تحصیل کچہری میاں چنوں کے باقاعدہ دعوت دی جس پر جیف جسٹس نے دعوت قبول کرتے ہوئے وعدہ کیا آپ تمام مسائل لکھ کربھجوا دیں ان کے حل پر فوری توجہ دی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ وکلاء ملک کادانشور طبقہ ہے جن کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے جو ملز،فیکٹریز اور انڈسٹریز وغیرہ قانون کے مطابق لیگل ایڈوائزر کا تقرر نہیں کرتیں ان کی فہرست بھی مجھے ارسال کردیں ۔انہوں نے میاں چنوں بار کے دورہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے ملتان آمد پر لازمی میاں چنوں آنے کا وعدہ بھی کیا اور کہا کہ مجھے عدلیہ تحریک کا وہ وقت یاد ہے جب میں نے میاں چنوں میں شام کے وقت پہنچنا تھا اور رات گزرنے کے بعد علی الصبح پہنچا مگر استقبال کیلئے جم غفیر موجود تھاجس نے -15ایل نہر کے پل سے استقبال کیا اور جلوس کئی گھنٹے بعد تحصیل کچہری کے سامنے پہنچا ۔انہوں نے میاں چنوں بار کے حوالے کیے جانے نئے بار روم کے فرنیچر و کتب کیلئے بھی درخواست ارسال کرنے کو کہا تاکہ ضروری کارروائی ہوسکے۔یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی بعد ازاں فوٹو سیشن ہوا۔

  • روحانی سفر کی روداد ,,,,چوراہا…حسن نثار

    میں پچاس برس بعد ان گلیوں اور بازاروں میں گم اس آٹھ سالہ لڑکے کو ڈھونڈ رہا تھا جو سونف کے کھیتوں میں بھاگا پھرتا، برف خانے سے نکلی برف کی سلوں پر ”سکیٹنگ“ کرتا اور اپنے سکول کے درمیان سے گزرتی ندی میں تختیاں دھوتے ہوئے تختیاں لڑانے کے مقابلے میں کبھی جیت جاتا کبھی ہار جاتا۔ وہ لڑکا اور اس کے ساتھی بندروں جیسی برق رفتاری کے ساتھ درختوں پر چڑھنے اترنے میں ماہر تھے۔
    میں نے تنگ آ کر گھر فون کیا اور کہا کہ جاوید بھائی کو لائل پور فون کر کے کہیں کہ مجھ سے رابطہ کریں۔ چند منٹ بعد ہی ان کا فون آ گیا تو میں نے بتایا کہ … ”بھائی جان! میں میاں چنوں میں اپنا گھر ڈھونڈ رہا تھا سوچا آپ سے گائیڈنس لے لوں لیکن اسی دوران ایک صاحب مل گئے جو آپ کو جانتے اور بچپن میں ہمارے گھر بھی آیا کرتے تھے۔ جاوید بھائی نے بے ساختہ کہا ”یہ میرا دوست الیاس ہو گا“ میں نے جملہ دوہرایا تو وہ مہربان رہبر بولا … ”میں الیاس کا چھوٹا بھائی ہوں“
    میں حیرت، حسرت، محبت اور عقیدت سے اس خوبصورت سہہ منزلہ مکان کو دیکھ رہا تھا جس میں میرے دادا نے میری علمی بنیاد رکھی تھی۔ موجودہ مالکان کو بتایا گیا کہ ایک مسافر بوڑھا اس مکان میں اپنا بچپن ڈھونڈنے اور اپنے دادا مرحوم کی پرچھائیوں سے ملنے آیا ہے تو گھر کے دروازے کھل گئے۔ صرف ایک بڑی تبدیلی تھی کہ اوپری منزلوں کے صحن کے درمیان میں لوہے کے جنگلوں اور فرش سے محفوظ کیا گیا جو خلاء ہوتا تھا، جس سے گراؤنڈ فلور بھی دکھائی دیتا … وہ پر کر دیا گیا تھا ورنہ سب کچھ تقریباً جوں کا توں تھا صرف دنیا بدل چکی تھی … نہ دادا جان باقی تھے نہ وہ 8 سالہ لڑکا۔ مین روڈ پر آئے تو کچھ لوگ منتظر تھے میں نے بچپن کے دو سکول فیلوز کا نام لیا تو بولے … دونوں فوت ہو چکے مجید بھی جعفری بھی۔ میں نے پوچھا ”کچھ فاصلے پر ”اپنا کتاب گھر“ نام کی ایک دکان ہوتی تھی جہاں سے ہم کہانیوں کی کتابیں اور تصویریں خریدا کرتے تھے۔“ ”وہ دکان ویسے ہی موجود ہے“ کسی نے کہا تو میں بے اختیار کھنچتا چلا گیا۔
    چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیار حبیب
    اجڑ گئے ہیں پرانی محبتوں کے مزار
    آنسوؤں سے چراغاں کے بعد ہم اصل منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ مستند، معروف، مقبول اور محبوب ترین عالم و مبلغ حضرت مولانا طارق جمیل کے تلمبہ کی طرف کہ شیر شاہ سوری کے زمانہ میں ان کے بزرگ اس علاقہ کے حکمران تھے آج مولانا طارق جمیل دلوں پر حکومت کرتے ہیں کیونکہ ہم جیسے گنہگاروں سے بھی محبت کرتے ہیں۔ کیسے بختوں والے بزرگ تھے جن کے دونوں بیٹے خلق خدا کے لئے روشنی کے مینار ہیں۔ مولانا طارق جمیل نے زندگی دین میں رہنمائی کے لئے وقف کر دی اور چھوٹے بھائی ڈاکٹر طاہر جمیل (ہارٹ سپیشلسٹ) نے اپنی زندگی مسیحائی کے لئے وقف کر دی ہے کہ تلمبہ سے لاہور تک بے وسیلہ لوگوں کا لاڈلا سرجن ہے۔ ڈاکٹر طاہر لاہور ہوتے ہیں اور مولانا طارق جمیل انتھک تبلیغی دوروں پر لیکن غیر موجودگی میں بھی خلق خدا سے محبت کرنے والے مہمان نواز بزرگوں کا یہ ڈیرہ اور لنگر آباد رہتا ہے۔ ذات، برادری، رنگ، نسل، طبقہ، فرقہ کوئی نہیں پوچھتا کہ مہمان صرف مہمان اور ہر مہمان وی آئی پی کہ ان کے بزرگ بھی مہمانوں کے بغیر دستر خوانوں کو ویرانوں سے زیادہ کچھ نہ جانتے تھے۔ دوستوں کی ”ہیر“ ڈاکٹر فیاض رانجھا کی قیادت میں یہ خاکسار، یار غار صلاح الدین درانی صلو، ممتاز ترین سرجن ڈاکٹر خالد گوندل، عزیزی نور رانجھا، امریکہ پلٹ منشاء، رانا گلزار، ٹیپو اور اطہر عرف روغنی نان پر مشتمل یہ قافلہ جب شام ڈھلے تلمبہ پہنچا تو مولانا طارق جمیل کی آرام بخش اور صبح صادق جیسی مسکراہٹ ہماری منتظر تھی

  • بار ایسوسی ایشن میاں چنوں میں پہلی بار محفل مشاعرہ

    میاں چنوں، بار ایسوسی ایشن میاں چنوں کی تاریخ میں پہلی محفل مشاعرہ میں ممتاز شعراء و شاعرات محترمہ بسمل صابری، ناصر بشیر، عامر بن علی، محترمہ پروین نقش، قمر رضا شہزاد، خورشید مستانہ، فاروق طراز، ندا فاطمہ رانا، اسد عباس اسد، شیخ الطاف مبصر یزدانی، لیاقت علی شاکر ملوکا، تنویر احمد تنویر، اکمل ہمدانی اپنا اپنا کلام پیش کر رہے ہیں۔ اس موقعہ پر سول جج سعد سلمان، راوی فاؤنڈیشن کے بانی حاجی عابد حسین عابد، ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب رانا بابر حسین، صدر بار چوہدری ندیم اختر، سابق صدر بار نوید احمد بٹ اور ممبر اینٹی کرپشن کمیٹی و ہیومن رائٹس رضا حسین جعفری ایڈووکیٹ سمیت سینکڑوں شرکاء موجود ہیں

  • میاں چنوں کے بارے میں پہلے بلاگ کی پہلی پوسٹ

    میاں چنوں کے بارے میں پہلے بلاگ کی پہلی پوسٹ

    یہ میاں چنوں کے بارے میں پہلے بلاگ کی پہلی پوسٹ ہے جس میں اپ تمام دوستوں کو دعوت ہے کہ اپ میاں چنوں کے بارے میں معلومات ہمارے ساتھ شیئر کریں ایسے خیالات جو اپ ایک سنجیدہ پلیٹ فارم پر پوری دنیا میں متعارف کروانا چاہتے ہیں اپ اس بلاگ میں وہ سب کچھ لکھ سکتے ہیں

    یہ بلاگ شہر کی پہلی ویب سائٹ اپنا میاں چنوں ڈاٹ کوم کا حصہ ہے اس بلاگ کے ذریعے آپ شہر میں ہونے والی مثبت سرگرمیوں کو اپنے نام سے پوری دنیا میں متعارف کر وا سکتے ہیں ۔ ابھی رجسٹر ہو کو آپ بھی اپنے شہر کا رپورٹر بن جائیں ۔ رجسٹر ہونے کے لئےاپنا نام ایڈریس اور فون نمبرواٹس اپ کریں